،تصویر کا ذریعہGurminder Singh Grewal/BBC
- مصنف, گرومندر سنگھ گریوال
- عہدہ, بی بی سی
رنگ برنگے پھولوں کے درمیان ٹہلتے اس کسان جوڑے کو قدرت کے ان خوشبودار تحفوں اور ان کے دم سے چلتے اپنے کاروبار کے باعث ایک اطمینان کا احساس ہے۔
انڈیا کے صوبہ پنجاب کے فتح گڑھ صاحب ضلع کے گاؤں نانووال سے تعلق رکھنے والے گروندر سنگھ سوہی اور ان کی اہلیہ سکھویندر کور پھولوں کی کاشت کاری کرتے ہیں۔ ان کے لیے یہ کاروبار نہ صرف خوشی بلکہ مالی آسودگی کا بھی باعث بن رہا ہے۔
تقریباً 17 سال قبل گروندر سنگھ نے تجرباتی بنیادوں پر پھولوں کی کاشت شروع کی۔ آج ضلع کھمانو میں کئی ایکڑ اراضی پر اگے رنگ برنگے پھول، ان کی محنت اور لگن کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
گروندر سنگھ پھول اور ان کے بیج بیچتے ہیں۔ ان کے گاہکوں کی اکثریت بیرون ملک میں مقیم ہے۔ اس کاروبار میں انھیں اپنی اہلیہ کی حمایت حاصل رہی ہے۔
اب علاقے کے 25 کے قریب کسان بھی ان سے جڑ چکے ہیں اور پھولوں کی کاشت کر رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGurminder Singh Grewal/BBC
’میں کاشت کاری میں کچھ جدت لانا چاہتا تھا‘
گروندر سنگھ کہتے ہیں ’میں ایک ذہین طالب علم تھا، لیکن مجھے پڑھائی میں خاص دلچسپی نہیں تھی۔ میں زراعت کے شعبے میں کچھ کرنا چاہتا تھا۔‘
بارہویں جماعت تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد وہ کھیتی باڑی کے کام سے جڑ گئے۔ انھوں نے اس شعبے میں مختلف تجربات کیے تاکہ نہ صرف وہ اپنے منافع میں اضافہ کر سکیں بلکہ ان کا دارومدار محض گندم اور اناج کی کاشت تک محدود نہ رہے۔
سنہ 2008 میں گروندر سنگھ نے پنجاب کے محکمہ باغبانی کے کھمانو کے مرکز سے پھولوں کے کچھ بیج خریدے اور پھول لگانے کے لیے اپنے ہی کھیت میں ایک چھوٹا سا گوشہ تیار کیا۔
گروندر کہتے ہیں کچھ کامیابی ملنے کے بعد انھوں نے اس چھوٹے سے گوشے کو پہلے ڈیڑھ ایکڑ تک پھیلایا بعد ازاں انھوں نے اس کو پانچ ایکڑ تک پھیلا کر اس پر پھولوں کی کاشت شروع کردی۔
وہ اپنے اس فیصلے سے مطمئن دکھائی دیتے ہیں ’یہ کاروبار میرے لیے ایک نعمت ثابت ہوا۔‘
گروندر سنگھ کہتے ہیں، ’لوگ بیرون ملک جانے کے لیے رقم خرچ کرتے ہیں اور میں صرف پھولوں کے کاروبار کے لیے 11 ممالک کا سفر کر چکا ہوں۔‘

،تصویر کا ذریعہGurminder Singh Grewal/BBC
پھول اور اس کے بیج کون خریدتا ہے؟
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
گروندر نے شروعات اپنی مصنوعات انڈین مارکیٹ میں بیچنے سے کی۔ اس کے ساتھ ساتھ انھوں نے محدود پیمانے پر پھول بیرون ملک بھی بھیجے لیکن اس کا انحصار پہلے سے ملے آرڈرز پر ہوتا تھا۔
وہ کہتے ہیں کہ کچھ انڈین تاجر بیرون ملک پھول سپلائی کرتے تھے ’میں ان کی مانگ کے مطابق تقریباً پانچ ایکڑ اراضی پر پھول اگاتا تھا۔‘
پھر کووڈ کی عالمی وبا آئی اور اس کے ساتھ ہی پھولوں کی مانگ میں بھی کمی آئی۔
گروندر سنگھ کہتے ہیں کہ وہ گندم اور اناج کی فصل کے چکر میں نہیں پڑنا چاہتے تھے اس لیے انھوں نے اس عرصے کے دوران اپنے کاروبار کو زندہ رکھنے کے لیے پھولوں کے بیج تیار کرنا شروع کیے۔
اِس وقت گروندر سنگھ تقریباً 75 ایکڑ اراضی پر پھول اور ان کے بیج حاصل کرنے کے لیے کاشت کرتے ہیں۔
اس میں سے تقریباً آٹھ ایکڑ زمین ان کی اپنی ملکیت ہے جب کہ 20 ایکڑ لیز پر حاصل کی گئی ہے۔ گروندر اپنا باقی کاروبار کنٹریکٹ فارمنگ کے ذریعے کرتے ہیں جس میں 25 کسان ان کے ساتھ منسلک ہیں۔
گرویندر کی کمپنی چار مختلف ممالک کو بیج برآمد کرتی ہے۔
وہ کہتے ہیں ’مارکیٹنگ میں کبھی کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا۔ پھول کاشت سے پہلے ہی فروخت ہو جاتے ہیں۔ غیر ملکی کمپنیاں ہمیں پیشگی اپنی مانگ بتا دیتی ہیں اور ہم اس حساب سے پھول اگاتے ہیں اور اسی مطابق بیج بھی تیار کیے جاتے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہGurminder Singh Grewal/BBC
کنٹریکٹ فارمنگ کی مدد سے کاشت
گروندر سنگھ اس وقت پنجاب کے کئی اضلاع بشمول امرتسر، ہوشیار پور، بٹھنڈہ، مانسا اور سنگرور میں مختلف کسانوں کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔
کنٹریکٹ فارمنگ کا یہ سلسلہ نہ صرف گروندر سنگھ بلکہ اس کاروبار سے جڑے کسانوں کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہو رہا ہے۔
گروندر کہتے ہیں وہ کسانوں کو بیج اور ان کی ضروریات کے مطابق پھولوں کے پودے بھی فراہم کرتے ہیں۔
اس کے علاوہ کسانوں کو تربیت اور تکنیکی معلومات بھی فراہم کی جاتی ہیں۔ وہ وقتاً فوقتاً کسانوں کی حوصلہ افزائی بھی کرتے ہیں۔
‘ہم ان کسانوں کے فارموں کا دورہ کرتے ہیں جن کے ساتھ ہم سال میں تقریباً سات بار کام کرتے ہیں تاکہ فصل کے معیار کے بارے میں اطمینان کر سکیں۔ اس سے ان کے فارم پر بھی نظر رکھنے میں مدد ملتی ہے۔’
’میں بالکل ویسے ہی اپنے فارم پرجاتی ہوں جیسے دیگر خواتین نوکری پر جاتی ہیں‘
گروندر سنگھ کو اس کوشش میں اپنی جیون ساتھی سکھوندر کور کا بھرپور تعاون حاصل ہے۔
وہ بتاتی ہیں کہ انھوں نے گریجوایشن تک تعلیم حاصل کی ہے اور ہمیشہ سے کاروبار شروع کرنا چاہتی تھیں ’میں جانتی تھی کہ میں ملازمت کبھی نہیں کروں گی بلکہ خود اپنا کاروبار چلاؤں گی۔‘
سکھوندر کے مطابق جب مزدور صبح آٹھ بجے کھیتوں میں کام کرنے کے لیے آتے ہیں تو وہ بھی ان کے ساتھ پہنچ جاتی ہیں۔
وہ کہتی ہیں ’میں صبح سویرے ہی اپنے گھر کے کام ختم کر لیتی ہوں تاکہ مزدوروں کے پہنچنے سے پہلے تیار ہوجاؤں۔‘
’میرا کام محض کھیتوں کی دیکھ بھال ہے لیکن میں اسے پوری تندہی سے کرتی ہوں۔ میں نے صبح سویرے کھیتوں پر جانے کی عادت ڈالی ہے۔ دوپہر میں تقریباً ایک گھنٹے کا وقفہ لیتی ہوں اور پھر شام چھ بجے تک دوبارہ کام میں لگ جاتی ہوں۔‘
سکھوندر کہتی ہیں کہ وہ اپنے فارم پر اسی طرح جاتی ہیں جیسے نوکری کرنے والی خواتین ملازمت پر جاتی ہیں۔
ان کے دو بچے ہیں۔ بڑی بیٹی لدھیانہ کی زرعی یونیورسٹی سے گریجویشن کر رہی ہے جبکہ ان کا بیٹا اس وقت دسویں جماعت میں ہے۔
ان کے مطابق گاؤں میں مزدوروں کی کمی ایک بڑا مسئلہ ہے۔
سکھوندر کہتی ہیں ’گاؤں میں بہت سی ایسی خواتین اور مرد ہیں جو کھیتوں میں کام کر سکتے ہیں لیکن وہ نہیں کرتے۔ اس لیے ہمیں دوسرے علاقوں سے کام کے لیے آئے مزدوروں پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہGurminder Singh Grewal/BBC
پھولوں کی کاشت محنت طلب لیکن منافع بخش کاروبار
ہارٹیکلچر ڈیپارٹمنٹ کے سب انسپکٹر امرجیت سنگھ کھمانو فتح گڑھ صاحب میں تعینات ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ ان کا محکمہ پھولوں کی کاشت کی حوصلہ افزائی کے لیے کسانوں کو بیج فراہم کرتا ہے ’جب ہم نے 2008 میں گروندر سنگھ کو دو کنال زمین کے لیے بیج فراہم کیے تو وہ فصل کے بارے میں بہت پر امید تھے۔‘
’بعد ازاں وہ پھولوں کی کاشتکاری اور بیج کی پیداوار کی طرف متوجہ ہوئے۔‘
امرجیت سنگھ کے مطابق یہ کاروبار گندم اور اناج کی کاشت کی نسبت زیادہ منافع بخش ہے تاہم اس کے لیے کڑی نگرانی اور زیادہ محنت کی ضرورت پڑتی ہے۔
ان کے مطابق اگر گندم اور دیگر اناج کی فصلوں کو پانی دینے میں تھوڑی تاخیر بھی ہو جائے تو اس کی پیداوار میں زیادہ فرق نہیں پڑتا لیکن پھولوں کی کاشت میں ایسا نہیں ہے۔
پھولوں کی روزانہ کی بنیاد پر دیکھ بھال کرنے کی ضرورت ہے۔ کسانوں کو پہلے خود تربیت حاصل کرنے کی ضرورت ہوتی تاکہ وہ یہ جان سکیں کہ پھول کہاں اور کب اگائے جائیں اور انہیں کب چنا جائے۔
امرجیت سنگھ کسانوں کو اس کاروبار میں شامل ہونے کی تجویز کرتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ عام طور پر اگر کوئی شخص کسی کاروبار میں کامیاب ہو جاتا ہے تو وہ اپنے گُر دوسروں کو بتانے سے گریز کرتے ہیں۔ تاہم ان کے مطابق گروندر سنگھ اپنی مہارت کے مطابق دوسرے کسانوں کو تربیت دینے کے لیے بھی تیار ہیں۔